تجارت و پواندہ قافلے

گومل اور توچی دروں کی تاریخی شاہراہیں: قدیم پواندہ قافلے اور دفاعی چوکیاں

صدیوں سے پواندہ خانہ بدوش سوداگروں کے قافلے ریشم، خشک میوہ جات، اون اور قالینوں سے لدے ہزاروں اونٹوں کے ساتھ گومل اور توچی دروں سے گزر کر ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کی منڈیوں تک پہنچتے تھے۔

مستند مآخذپوھان معاشی تاریخ ڈیسک · 28 January 2026 · 7 منٹ مطالعہ
گومل اور توچی دروں کی تاریخی شاہراہیں: قدیم پواندہ قافلے اور دفاعی چوکیاں

وزیرستان اور وادئ گومل کے پہاڑی درے وسطی ایشیا اور سطح مرتفع ایران کو پنجاب اور سندھ کے میدانی علاقوں سے ملانے والی قدیم ترین تجارتی گزرگاہیں ہیں۔

پواندہ قبائل (ناصر، خروٹی، سلیمان خیل) ہر موسمِ خزاں میں اسلحہ بند قافلوں کے ہمراہ ان دروں سے گزرتے تھے۔ وزیر اور محسود علاقوں سے بحفاظت گزرنے کے لیے بدرگہ (محافظ) کا روایتی نظام طے ہوتا تھا۔

ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی گزٹیئرز اور سیٹلمنٹ ریکارڈز میں بخارا کے ریشم، قندھار کے انار، اون اور نیل کے اس تجارتی تبادلے کی تفصیلی دستاویزات محفوظ ہیں۔

مآخذ

  1. 1.Gazetteer of the Dera Ismail Khan District, 1883–84Punjab Government Press
  2. 2.Report on the Internal Trade of the Punjab, 1890–91India Office Records