
شیر علی آفریدی (جنہیں شیر علی یا شیرے علی بھی کہا جاتا ہے) کا تعلق موجودہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر، علاقہ تیراہ کے کوکی خیل آفریدی قبیلے سے تھا۔ ان کی جڑیں پاک افغان سرحد کے ساتھ راجگال تیراہ کے دشوار گزار پہاڑوں سے ملتی ہیں۔ تاریخی شواہد بتاتے ہیں کہ ان کا اصل تعلق وادی تیراہ سے تھا جبکہ کچھ روایات انہیں جمرود اور خیبر کے سرحدی علاقوں سے جوڑتی ہیں۔
ان کے والد کا نام اس وقت کے ریکارڈز میں ولی (یا ولی خان) درج ہے۔ شیر علی پشاور کے قریب ان گاؤں میں رہتے تھے جو اس وقت برطانوی انتظامی کنٹرول سے باہر آزاد قبائلی علاقے کا حصہ تھے۔
**ایک معزز سرحدی سپاہی:**
19ویں صدی کے وسط میں، سرحدی علاقوں کے لوگ اکثر برطانوی ہندوستانی افواج میں خدمات انجام دیتے ہوئے اپنی بہادری اور وفاداری کے لیے مشہور تھے۔ شیر علی نے خود گھڑ سوار دستے اور پولیس اہلکار کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے پشاور میں برطانوی افسران کے ماتحت کام کیا، جن میں رینل ٹیلر اور کمشنر کے دفتر سے وابستہ دیگر افسران کے لیے بطور گھڑ سوار اردلی (Orderly) کام کرنا بھی شامل تھا۔
ان کی شاندار خدمات—جن میں یوسفزئی قبائل کے خلاف کارروائیاں اور عمومی اچھا برتاؤ شامل ہے—پر انہیں انعامات بھی ملے، جن میں ایک گھوڑا، ایک پستول اور تعریفی سند شامل تھی۔
بعد میں برطانوی ذرائع نے انہیں ایک مضبوط جسم کا حامل "نڈر سپاہی" قرار دیا جو یورپی افسران میں مقبول تھا اور اس قدر قابل اعتماد تھا کہ ایک گھرانے میں بچوں کی دیکھ بھال بھی کرتا تھا۔
اس سے پہلے وہ ایک ایسے ڈاکو کو قتل کرنے کے الزام سے بھی بری ہو چکے تھے جس نے مبینہ طور پر ان کے مویشی چرانے اور ان کی بیوی پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی—یہ واقعہ بعض روایات کے مطابق مقامی غیرت اور عزت کے اصولوں سے جڑا ہوا تھا۔
**وہ سزا جس نے ان کی زندگی بدل دی:**
1867 میں، شیر علی نے حیدر (یا حیدر خان) نامی ایک شخص کو قتل کر دیا جسے مختلف ذرائع میں دشمن یا رشتہ دار کے طور پر بیان کیا گیا ہے، اور بعض اوقات اسے ایک "تربور" (چچا زاد اور پختون روایتی دشمن) بھی کہا جاتا ہے۔
یہ قتل پشاور میں دن دیہاڑے برطانوی عملداری والے علاقے میں ہوا۔
تاریخی حوالوں میں اس قتل کے مختلف محرکات بیان کیے گئے ہیں۔ کچھ پرانی خاندانی دشمنی کا ذکر کرتے ہیں، جبکہ دیگر اسے حسد، ذاتی رقابت یا خاندانی عزت کے دفاع سے جوڑتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق یہ کسی خاتون رشتہ دار کی بے عزتی کا بدلہ تھا۔
شیر علی نے اپنی بے گناہی کا دعویٰ کیا یا یہ موقف اپنایا کہ ان کے اعمال قبائلی رواج خصوصاً پختونولی کے اصولوں کے تحت جائز تھے۔ تاہم، 2 اپریل 1867 کو برطانوی عدالت نے انہیں موت کی سزا سنائی۔ اپیل پر سزا کو عمر قید (کالے پانی) میں تبدیل کر دیا گیا اور انہیں جزائر انڈمان بھیج دیا گیا۔
شیر علی اور ان کے قبیلے کے لیے یہ فیصلہ انتہائی غیر منصفانہ تھا۔ قبائلی نظام سے تعلق رکھنے کی وجہ سے انہیں غالباً یہ توقع تھی کہ یہ تنازعہ برطانوی عدالتوں کے بجائے جرگہ اور روایتی قانون کے ذریعے حل ہوگا۔
اس سزا نے ان کی عزت مٹی میں ملا دی اور بطور ایک معزز سپاہی ان کا وہ مقام چھین لیا جو انہوں نے محنت سے کمایا تھا۔
**کالے پانی سے انتقام تک:**
شیر علی نے پورٹ بلیئر (بشمول وائپر آئی لینڈ) میں بحیثیت قیدی لگ بھگ دو سے تین سال گزارے۔ ان کے اچھے برتاؤ کی وجہ سے مبینہ طور پر انہیں حجام کا کام سونپا گیا، جس سے انہیں استرے (بلیڈ) تک رسائی مل گئی۔
اپنی قید کے دوران، انہوں نے ایک اعلیٰ برطانوی اہلکار سے اس غیر منصفانہ سزا کا بدلہ لینے کی منصوبہ بندی کی۔
8 فروری 1872 کو، وائسرائے رچرڈ بورک (چھٹے ارل آف میو) انڈمان کی جیل کا معائنہ کرنے پہنچے۔ اسی شام جب لارڈ میو ماؤنٹ ہیریئٹ (موجودہ ماؤنٹ منی پور) پر غروب آفتاب کا نظارہ کر کے اپنی کشتی کی طرف واپس آ رہے تھے، شیر علی اندھیرے سے نکلے اور ان پر چاقو سے حملہ کر دیا۔
لارڈ میو کی گردن اور کندھے پر وار کیے گئے اور وہ موقع پر ہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گئے۔
شیر علی نے فرار ہونے کی کوئی کوشش نہیں کی اور انہیں فوراً قابو کر لیا گیا۔
**"میں نے یہ اکیلے کیا ہے، اللہ کی مدد سے"**
تفتیش کے دوران شیر علی پرسکون اور پرعزم رہے۔ انہوں نے بیان دیا کہ انہوں نے اکیلے ہی کارروائی کی، صرف اللہ نے ان کی مدد کی، اور ان کا کوئی انسانی ساتھی نہیں تھا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ اس ناانصافی کا بدلہ تھا جو ان کے ساتھ کی گئی۔
روایات کے مطابق، ان کا ارادہ کسی بھی اعلیٰ برطانوی اہلکار کو قتل کرنے کا تھا جو ان کے سامنے آتا۔
کچھ برطانوی حکام اور بعد کے مصنفین نے انہیں ایک جہادی، وہابی یا مذہبی جنونی قرار دیا، جس کی ایک وجہ دیگر مسلمان سیاسی قیدیوں کی وہاں موجودگی تھی۔ تاہم، شیر علی نے خود کسی منظم مذہبی یا سیاسی سازش کا حصہ ہونے سے انکار کیا۔
**آخری لمحہ:**
شیر علی پر فوجی عدالت کے تحت تیزی سے مقدمہ چلایا گیا اور انہیں سزائے موت سنائی گئی۔ 11 مارچ 1872 کو انہیں وائپر آئی لینڈ میں پھانسی دے دی گئی۔
کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بنا کسی خوف کے پھانسی کے پھندے کا سامنا کیا، یہاں تک کہ رسی کو چوما اور کہا کہ وہ طویل عرصے سے اسی انجام کے متلاشی تھے۔ اس وقت ان کی عمر تقریباً 30 سال تھی۔
یہ برطانوی راج کی تاریخ میں ہندوستان کے کسی بھی گورنر جنرل یا وائسرائے کے قتل کا واحد کامیاب واقعہ ہے، جس نے پوری برطانوی سلطنت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
شیر علی آفریدی کی کہانی خیبر کے سرحدی علاقوں کی تاریخ میں ایک اہم مقام رکھتی ہے جہاں انصاف، غیرت اور مزاحمت کی داستانیں آج بھی زندہ ہیں۔
مآخذ
- 1.The Assassination of Lord Mayo: The "First" Jihad? — Dr. Helen James
- 2.Concerning John's Indian Affairs — Robert Henry Elliot



