شناخت

پختون، پٹھان اور افغان—ہماری اصل شناخت کیا ہے؟

پختون، پٹھان اور افغان اصطلاحات کی لسانی اور تاریخی تحقیق، اور اس بات کی وضاحت کہ ہماری اصل شناخت اور ان ناموں کی حقیقت کیا ہے۔

مستند مآخذظفر اقبال خان · 9 September 2026 · 6 منٹ مطالعہ
پختون، پٹھان اور افغان—ہماری اصل شناخت کیا ہے؟

پختون قوم کے افراد اپنی مادری زبان اور قومی روایت میں خود کو پښتون/پختون یا لہجوں کے اختلاف کے مطابق پشتون کہتے ہیں۔ یہی اس قوم کا اپنا اختیار کردہ، تاریخی اور فطری نام ہے۔ لیکن برصغیر، بالخصوص ہندوستان میں، یہی لوگ عموماً پٹھان کہلائے، جبکہ فارسی زبان کی تاریخی تحریروں میں ان کے لیے زیادہ تر افغان کی اصطلاح استعمال کی گئی۔

یہاں بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پٹھان اور افغان کے اصل معنی کیا ہیں؟ کیا یہ دونوں الفاظ محض پختون قوم کے لیے دوسری زبانوں میں استعمال ہونے والے نام ہیں، یا ان کے پس منظر میں کوئی متعین لغوی، نسلی اور تاریخی مفہوم بھی موجود ہے؟

دستیاب لغوی تحقیق کے مطابق پٹھان کوئی الگ قوم یا جداگانہ نسلی شناخت نہیں، بلکہ برصغیر کی ہندی اور اردو زبانوں میں پختون/پښتون کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ معروف لغت Merriam-Webster بھی “Pathan” کو ہندی و اردو کے لفظ “Paṭhān” سے منسوب کرتی ہے، جس کی اصل مشرقی پشتو کے “Paxtana”، یعنی پختونوں، سے بتائی گئی ہے۔ اس اعتبار سے پٹھان کا کوئی جداگانہ، قطعی لغوی مفہوم سامنے نہیں آتا؛ یہ بنیادی طور پر پختون نام ہی کی علاقائی اور صوتی تبدیلی معلوم ہوتا ہے۔

اس لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ پٹھان ایک الگ شناخت نہیں بلکہ پختون کا برصغیری تلفظ اور نام ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہندوستانی معاشرے، سرکاری تحریروں اور بعد ازاں انگریزی نوآبادیاتی ریکارڈ میں اس لفظ کا استعمال اتنا عام ہوگیا کہ بہت سے پختون خاندان بھی خود کو پٹھان کہلوانے لگے۔

دوسری جانب افغان ایک نہایت قدیم تاریخی اصطلاح ہے جو فارسی اور دیگر قدیم ماخذ میں طویل عرصے تک پختون قبائل کے لیے استعمال ہوتی رہی۔ تاہم اس لفظ کی قطعی لغوی اصل اور ابتدائی اشتقاق کے بارے میں اہلِ تحقیق کے درمیان مکمل اتفاق موجود نہیں۔

تاریخی اعتبار سے لفظ افغان ایک طویل مدت تک بالخصوص پختونوں کے لیے نسلی نام کے طور پر استعمال ہوتا رہا، مگر جدید دور میں اس کا مفہوم وسیع ہوکر افغانستان کے تمام شہریوں کے لیے قومی شناخت بن چکا ہے، خواہ ان کا نسلی تعلق پختون، تاجک، ہزارہ، ازبک یا کسی اور قوم سے ہو۔

یہ کہنا بھی مکمل طور پر درست نہیں ہوگا کہ پٹھان اور افغان دونوں نام محض غیروں نے بدنیتی کے ساتھ پختون قوم پر مسلط کیے۔ زبانوں کے باہمی رابطے میں اقوام کے نام تلفظ اور استعمال کے لحاظ سے تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔ البتہ یہ سوال بالکل جائز ہے کہ پختون قوم نے اپنی اصل خوداختیاری شناخت “پختون” کو علمی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر نمایاں کرنے کے لیے کتنی منظم کوشش کی؟

بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اکثر اپنے لیے استعمال ہونے والے ناموں کو ان کی تاریخی اور لسانی بنیاد جانے بغیر قبول کیا۔ ہم پٹھان بھی کہلائے، افغان بھی کہلائے، مگر اجتماعی سطح پر یہ بنیادی سوال کم ہی اٹھایا کہ ہمارا اپنا نام کیا ہے۔

اس صورتِ حال کا سدباب دوسرے ناموں سے نفرت یا ان کے استعمال پر پابندی کے ذریعے نہیں، بلکہ علمی آگاہی کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ ہمیں اپنی تحریروں، تعلیمی مواد، خاندانی تاریخوں، ثقافتی سرگرمیوں اور قومی گفتگو میں پختون کو بنیادی نسلی شناخت کے طور پر ترجیح دینی چاہیے۔

لہٰذا ہمارا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ دنیا ہمیں جس نام سے بھی جانتی رہی ہو، ہم اپنی بنیادی نسلی اور تہذیبی شناخت کو واضح طور پر پختون کے نام سے محفوظ کریں۔ پٹھان اور افغان کے تاریخی استعمال کو مٹانا ممکن ہے نہ ضروری، لیکن ان کی درست تشریح کرنا، ان کے بدلتے ہوئے مفاہیم کو سمجھنا اور پختون کی اصل شناخت کو مقدم رکھنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔

مآخذ

  1. 1.Merriam-Webster
  2. 2.Various