
ختک رقص کو عام طور پر صرف "ختک ڈانس" کہا جاتا ہے کیونکہ یہ تاریخی طور پر ختک قبیلے کے مردوں سے منسوب ہے۔ تاہم ختک قبیلے کے اپنے روایتی ماحول میں یہ نام نامکمل سمجھا جاتا ہے۔ خود خٹکوں کے ہاں اس رقص کا اصل نام "بانگڑہ" ہے، اور اس کا مکمل مظاہرہ دراصل تین الگ الگ مراحل پر مشتمل ہوتا ہے: پہلا مرحلہ "بانگڑہ" (تلواروں کے ساتھ)، دوسرا "ڈیرہ بی" (تلواروں اور رومال کے ساتھ)، اور اختتامی مرحلہ "بلبلہ" (بغیر تلواروں کے، تالیوں کے ساتھ)۔
برطانوی افسر بسٹر گڈون اپنی کتاب "Life Among the Pathans" میں جٹہ کے پہاڑی قلعے کا ایک تاریخی واقعہ بیان کرتا ہے جب دہلی کے اعلیٰ افسر آرتھر لاسیلز ہوئل اور ڈی سی کوہاٹ برٹک سمتھ کے اعزاز میں اس رقص کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ رقص کے لیے مکوڑی اور اسماعیل خیل کے معروف دیہاتوں سے ماہر ترین رقاص بلوائے گئے۔
گڈون کے مطابق ایک حقیقی بانگڑہ رقص کے لیے چند روایتی شرائط ناگزیر ہیں: تاریک رات، میدان کے عین وسط میں لکڑیوں اور جھاڑیوں کا دہکتا ہوا الاؤ، تلواروں کی چمک، کڑاہ میں پکتی ہوئی میٹھی قہوہ نما چائے، اور دو شہنائیوں (سرنائی) اور دو ڈھولوں پر مشتمل روایتی ساز۔ سرنائی کی آواز اسکاٹ لینڈ کے بینڈ (Pipes) سے مشابہ دلسوز کیفیت پیدا کرتی ہے۔
رقص کا آغاز بانگڑہ سے ہوتا ہے۔ رقاص کھلے سر، تیل لگے روایتی کٹے ہوئے بالوں، کمر پر بندھے رنگین رومالوں اور ہاتھوں میں برہنہ تلواریں تھامے دائرہ بناتے ہیں۔ الاؤ کی طرف تین اونچے قدم، تلوار کا سینے کے سامنے چکر اور پھر تین قدم پیچھے۔ جیسے جیسے ڈھول کی تھاپ تیز ہوتی ہے، تلواروں کی گھن گرج اور بالوں کے اڑتے لچھے ایک سحر انگیز کیفیت پیدا کر دیتے ہیں۔ تماشائی جوش میں آ کر رقاصوں پر اپنی پگڑیاں اور چادریں نچھاور کر کے الاؤ میں ڈال دیتے ہیں۔
دوسرا مرحلہ "ڈیرہ بی" کہلاتا ہے۔ اس میں دو دو رقاص ایک ہاتھ میں تلوار اور دوسرے میں رنگین رومال تھام کر سازندوں کے سامنے بیس گز کے فاصلے سے تیزی سے آگے بڑھتے ہیں اور لٹو کی طرح گھومتے ہوئے اچانک پاؤں کے بل بیٹھ کر داد وصول کرتے ہیں۔
تیسرا اور آخری مرحلہ "بلبلہ" ہے۔ اس میں تلواریں رکھ دی جاتی ہیں۔ دو رقاص کانوں پر ہاتھ رکھ کر اونچی سروں میں عشقیہ لوک گیت گاتے ہیں، جس کے بعد تمام رقاص دائرے میں گھومتے ہوئے یک زبان ہو کر تالیاں بجاتے ہیں۔ ماضی میں یہ رقص کامیاب قبائلی مہمات اور فتوحات کے بعد جنگجوؤں کا جشن ہوا کرتا تھا، جو بعد میں شادی بیاہ اور قومی تہواروں کا مستقل حصہ بن گیا۔
مآخذ
- 1.Life Among the Pathans (Khattaks) — Buster Goodwin, Chapter VI
