تحریکِ مزاحمت و قبائلی تاریخ

فقیرِ ایپی اور گوریک کا پہاڑی مرکز: وزیرستان میں مسلح مزاحمت کی تاریخی دہائی (۱۹۳۶–۱۹۴۷ء)

گوریک کے پہاڑی مرکز سے حاجی میرزاعلی خان (فقیرِ ایپی) نے ۱۹۳۶ء سے ۱۹۴۷ء تک گوریلا جنگ منظم کی جس نے برطانوی ہند کے ۴۰ ہزار سے زائد سپاہیوں اور رائل ایئر فورس کے دستوں کو مصروف رکھا۔

مستند مآخذپوھان ریسرچ ڈیسک · 12 March 2026 · 10 منٹ مطالعہ
فقیرِ ایپی اور گوریک کا پہاڑی مرکز: وزیرستان میں مسلح مزاحمت کی تاریخی دہائی (۱۹۳۶–۱۹۴۷ء)

1930ء کی دہائی میں توری خیل وزیر علاقے سے حاجی میرزاعلی خان (فقیرِ ایپی) برصغیر کے طاقتور ترین نوآبادیات مخالف رہنما کے طور پر ابھرے۔

افغان سرحد کے قریب گوریک کے ناقابلِ تسخیر غاروں میں اپنا ہیڈ کوارٹر بنا کر انہوں نے اسلحہ سازی کے کارخانے، قبائلی عدالتیں اور ایک مشترکہ عسکری کمان قائم کی۔

رائل ایئر فورس کی مسلسل فضائی بمباری اور برطانوی ہند کی دو پوری فوجی ڈویژنوں کے باوجود گوریک پر کبھی قبضہ نہ ہو سکا۔ انٹیلی جنس فائلیں انہیں ایک ماہر عسکری و سیاسی حکمت کار کے طور پر تسلیم کرتی ہیں۔

مآخذ

  1. 1.Official History of Operations on the N.W. Frontier of India 1936–37Manager of Publications, Delhi
  2. 2.Intelligence Summaries on the Faqir of Ipi (1936–1947)India Office Records — L/PS/12 series
  3. 3.The Pathans: 550 B.C.–A.D. 1957Sir Olaf Caroe